گرین سیریز کا ناول نمبر 10 جلد ہی پبلش کیا جائے گا۔

#

Farzi Mulaqat Ibn e Talib Mazhar Kaleem M. A Imran Series Green Series Urdu Comics novel Urdu Jasoosi urdu science fiction pdf novels

 


 Farzi Mulaqat

by Ibn e Talib  

Urdu Spy Fiction 

Mazhar Kaleem M.A

Imran Series Green Series

Urdu Comics novel Urdu Jasoosi urdu 

science fiction pdf novels


فرضی ملاقات (II)

"بندہ تو بہت شاندار ہے لیکن یہ شخص ہے مشکوک……" جبران نے کبیر کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی۔

"وہ کیسے؟"…… کبیر چونک گیا۔

"مجھے لگ رہا ہے کہ میک اپ میں ہے۔" جبران نے جواب دیا

کبیر نے غیر محسوس انداز میں جبران کی نگاہوں کا تعاقب کیا تو اس کی آنکھیں بھی سکڑ گئیں۔ "لگ تو ایسا ہی رہا ہے۔" وہ بڑبڑایا۔ ان سے کچھ فاصلے پر لگی میز پر ایک لمبا تڑنگا، مضبوط جسم اور شاندار شخصیت کا مالک شخص کال سن رہا تھا۔

"فراخ پیشانی کا مالک ہے، میک اپ اتنا بھونڈا کیسے کر سکتا ہے؟"…… کبیر کی آنکھوں میں الجھن تیر رہی تھی۔

"کیا مطلب؟"……جبران نے حیرت سے پوچھا۔

" یعنی سیانا بندہ ہے لیکن یہ غلطی……نہ ہی چہرے کے تاثرات بدل رہے ہیں نہ ابھی تک مسکرایا ہے۔ " کبیر نے جواب دیا۔

 "ہو سکتا ہے شادی شدہ ہو۔"

ساحر کی آواز سن کر دونوں اچھل پڑے۔ ساحر کی آمد سے دونوں بے خبر رہے تھے۔ شاید مشکوک شخص پر ہی ساری توجہ مرکوز کیے بیٹھے تھے۔

" وجہ تو سمجھ میں آنے والی ہے۔ " کبیر مسکرایا۔

 "لیکن………… "

"کمرہ نمبر 13…… " ساحر…… جبران کی بات کاٹتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

"چلو جی…… مشکوکیت گئی تیل لینے۔" جھلاہٹ کے مارے جبران کا چہرہ بگڑ گیا۔ اپنی دانست میں اس نے تیر مارا تھا جبکہ ساحر اس بات کو اہمیت ہی نہ دی تھی۔

" چلو بھئی……"

 کبیر اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرہ نمبر تیرہ رسمی ملاقاتوں کے لیے مخصوص تھا، دفتری انداز میں ہی سجایا گیا تھا۔ اے سی کی ٹھنڈک اور تازہ گلاب کی خوشگوار خوشبو اذہان میں تازگی کی لہر چھوڑ جاتی تھی۔

"کمال ہے۔" جبران نے لمبی سانس کھینچتے ہوئے مسکرا کر کہا اور دونوں صوفوں پر براجمان ہو گئے۔

 دروازہ کھلا تو دونوں نے دروازے کو………… اور پھر حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ مشکوک شخصیت دروازے میں کھڑی تھی۔ اس نے اپنے پراعتماد قدم ان کی  طرف بڑھائے تو دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔

"کیپٹن شکیل……" نووارد نے کہا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

اس کا چہرہ سپاٹ تھا جبکہ آنکھوں میں مسکراہٹ کا سا احساس محسوس ہو رہا تھا۔

 "کبیر احمد…………" کبیر نے اٹھ کر مصافحہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ جبران نے بھی تعارف کروایا لیکن ان کی حیرت برقرار رہی جبکہ کیپٹن شکیل کا چہرہ ویسے ہی تاثر سے عاری تھا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکے کہ یہ کیسی ملاقات ہے؟

 دروازہ کھلا اور ایک اور سنجیدہ بشرے والا شخص اندر داخل ہوا۔ وہ کسرتی جسم کا مالک تھا، چہرے پر پھیلی سنجیدگی اس کی شخصیت کو خطرناک بنا رہی تھی۔اس کے پیچھے ہی سوٹ میں ملبوس ساحر نمودار ہوا۔ چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔

"کیپٹن شکیل صاحب سے تم لوگ مل ہی چکے ہوں گے، ان سے ملو…… ان کا نام عبدالعلی ہے اور ٹائیگر کے نام سے زیر زمین دنیا میں مشہور ہیں۔" ساحر نے مسکرا کر نووارد کا تعارف کروایا تو کبیر اور جبران نے اخلاقاََ اٹھ کر مصافحہ کیا۔ ٹائیگر کا تعارف سن کر کبیر کی پیشانی پر لکیر ابھر آئی تھی۔

"یہ گرین سروس کے ممبرز ہیں اور میری جگری دوست بھی۔ "

ساحر نے  ٹائیگر اور کیپٹن کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا۔

" بہت خوب…… " کیپٹن شکیل کی آنکھیں مسکرائیں۔  اب وہ غیر محسوس انداز میں ان کا جائزہ لے رہا تھا۔

" شکیل صاحب کیا کرتے ہیں؟" جبران اس کے سپاٹ چہرے کی وجہ سے ابھی تک الجھن میں تھا۔

"یہ سیکرٹ سروس کے ممبر ہیں۔"

 ساحر مسکرایا تو جبران اچھل پڑا جبکہ کبیر کا چہرہ بھی رنگ بدل گیا۔

 "سیکرٹ سروس اور مسٹر ٹائیگر کی دھوم تو ہر سو دھوم مچی ہے۔ آپ سے مل کر بہت خوش ہوئی"۔ کبیر نے پرخلوص انداز میں کہا۔ "شکریہ، گرین سروس بھی نام بنا رہی ہے، اس کے لیے ہم  دعاگو ہیں۔" کیپٹن نے جواب دیا۔

"ٹائیگر ، ہمارا مشن رکا ہوا ہے، کیا ہماری الجھن دور کر سکو گے؟۔" ساحر نے ٹائیگر سے پوچھا۔

"باس نے آپ سے ہر طرح کا تعاون کرنے کا حکم دیا ہے، میری طرف سے کوئی کمی نہیں ہو گی۔"ٹائیگر نے مسکرا کر جواب دیا۔

کبیر اور جبران حیرت سے ساحر کی طرف دیکھ رہے تھے۔

" تمہاری حیرت بجا ہے، ٹائیگر زیرزمین رہتا تو ہے لیکن یہ غنڈہ نہیں۔ بہت بڑا سائنسدان ہے اور اس کی مہارت کا زمانہ قائل ہے۔ ہمارے مشن کی سائنسی رکاوٹ دور کرنے کے لئے سب سے تیز اور آسان حل یہی نظر آیا ۔ " ساحر نے ان سے کہا۔

 "ساحر صاحب، ملک اور عوام کے مفاد کے لیے کام کرنے والے نایاب ہیں، ایسے میں آپ کی ٹیم تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ میرا سیکشن ہر طرح سے آپ کے ساتھ رہے گا"۔کیپٹن نے کہا۔

 "اوہ…… تو یہ ہو چکا ہے؟ "ساحر نے حیرت سے پوچھا۔

 "جی ہاں۔ کل ہی نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے۔ میری سربراہی میں نیا سیکشن بنا دیا گیا ہے جس میں ٹائیگر بطور فیلڈ لیڈر کام کرے گا۔ " کیپٹن نے اثبات میں سرہلایا۔

" ماشاءاللہ، یہ تو بہت اچھا ہوا۔کل نوٹی فکیشن ہوا اور کل ہی آپ کا پہلا مشن شروع ہو گیا۔ میری معلومات کے مطابق ٹرومین، ارباب اور لیلی وغیرہ بھی آپ کے سیکشن میں ہوں گے۔ " ساحر نے تصدیق طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا جبکہ کیپٹن اور ٹائیگر حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔

" یہ آپ کیسے جانتے ہیں؟۔" کیپٹن نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

" مجھے تو یہ بھی علم ہے کہ رانا ہاؤس کا ایک باسی بھی آپ کے سیکشن میں شامل کیا جائے گا۔"۔ ساحر مسکرایا۔

عین اسی وقت  دروازہ کھلا تو سب نے چونک کر دیکھا…… ایک دیوزاد قسم کا حبشی اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خون کی پیاس دیکھی جا سکتی تھی۔

 " چلیں کیپٹن صاحب؟ سکیورٹی کلئیر ہے۔ "وہ کیپٹن سے مخاطب ہوا۔

 "چلو جوانا…… " کیپٹن نے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا۔

"اوہ……یہ ماسٹر کلرز کے جوانا ہیں۔"

 جبران نے اشتیاق بھری نظروں سے جوانا کو دیکھا۔ کبیر کی آنکھوں میں تحسین بھرے تاثرات تھے۔

"یہی جوانا ہے……" ساحر نے جواب دیا۔

وہ تینوں رسمی کلمات کے بعد باہر نکل گئے ۔

"یہ شکیل صاحب نے کیسا میک اپ کیا ہوا ہے؟۔"۔ جبران نے ان کے نکلتے ہی پوچھا۔

"یہ تو ایک راز ہے۔"۔ ساحر مسکرایا۔

>>>                                         <<<

"گرین سروس کا نام تو سنا تھا، یہ امید نہیں تھی کہ اس طرح ملاقات ہو گی۔" ٹائیگر نے نکلتے ہی کہا۔

 "کافی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں بالخصوص ساحر……اس کی بہت تعریف سنی ہے۔" کیپٹن نے جواب دیا۔

" وہ تو باس کا حکم ہے ورنہ میں دیکھتا……" جوانا نے دانت نکوستے ہوئے کہا۔

" نہیں جوانا…… مجھے تم سے زیادہ معلومات ہیں۔"کیپٹن نے اسے تھپکی دی اور ہال میں داخل ہو گئے۔

>>>>>>>                                                                                           <<<<<<<<

کمرہ نمر 14 میں سکرین اور سپیکر آن تھے۔ ایک قد آور وجیہہ صورت شخص بیٹھا مشینی انداز میں صفحات بھرے جا رہا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی تو لکھتے لکھتے ہی کہا…… "آجاؤ…… "

 دروازہ کھلا اور ایک نوجوان اندر داخل ہوا۔ "سر کب تک لکھتے رہیں گے؟" اس نے حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"یہ الفاظ ہی تو میری دھڑکن ہیں۔" وہ بھی قلم روک کر مسکرائے۔

"اور وہ…………؟"

نوجوان نے سکرین کی طرف اشارہ کیا جہاں کمرہ نمبر 13 میں گرین سروس اور کیپٹن کا سیکشن محو گفتگو تھے۔ انہیں دیکھ کر مظہر کلیم مسکرائے۔

"چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ "

" سر ،چائے منگواؤں؟……" نوجوان نے پوچھا۔

 "منگواؤ…… اب ابن طالب کی پیشکش تو ٹھکرائی نہیں جا سکتی۔"

مظہر کلیم صاحب نے محبت سے نوجوان کے سر پر ہاتھ رکھا…… نوجوان نے سر خم کر لیا۔

https://web.facebook.com/ibne.talib.142/

Post a Comment

0 Comments