Farzi Mulaqat
by Ibn e Talib
Urdu Spy Fiction
Ibn e Safi, H Iqbal
Jasoosi Duniya Imran Series Parmood Series Green Series
Urdu Comics novel Urdu Jasoosi urdu
science fiction pdf novels
السلام علیکم
فرضی ملاقات
جھٹکے سے دروازہ کھلا اور میجر پرمود اندر داخل ہوا۔
کمرے کی جانچ کے لیے اس کی تیز آنکھوں نے چند ساعتیں خرچ کیں۔ کمرے میں آرام دہ ایرانی قالین بچھا
تھا۔ نشست کے لیے درمیان میں نفاست سے چار صوفے لگائے گئے تھے جن کے درمیان میز پر
رکھے تازہ پھول مہک رہے تھے۔ خوشبو نے پرمود کے اعصاب پر خوشگوار اثر چھوڑا تھا،
وہ قدم بڑھاتے ہوئے ایک ڈبل سیٹر پر جم رہا۔ پرسکون نظر آنے کے باوجود اس کے وجود
میں لاوا بیتاب تھا، جیسے کوئی سوال اٹکا ہوا ہو۔
تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی
کہ دروازہ دوبارہ کھلا اور شاندار سوٹ میں ملبوس شخصیت اندر داخل ہوئی۔ ہاتھ میں
مہنگا سگار، ہر قدم میں اعتماد اور آنکھوں میں جیسے نیند بھری تھی۔
"اوہ
کرنل، آپ بھی………………"
پرمود جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
کرنل نے مسکراتے ہوئے پرمود سے معانقہ کیا۔
"کیسے
ہو میجر؟"
"میں
ٹھیک ہوں لیکن مجھے حیرت ہے۔" حیرت سے زیادہ وہ الجھا ہوا نظر آرہا تھا۔ "
چھوڑو میجر، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔" کرنل کی
مسکراہٹ برقرار رہی۔
"آپ
جیسی مصروف ترین ہستی کا ایک خط پر آجانا، حیرت زدہ ہی کر سکتا ہے۔"
"مقصدیت
ہی وقت کو قیمتی بناتی ہے۔ " کرنل نے جواب دیا۔
"
اگر آپ بھی یہاں ہیں تو
کم ازکم ایک ہستی اور بھی مدعو ہونی چاہیے۔ " پرمود بڑبڑایا۔
" ضروری
تو نہیں۔"
"یہ
بھی درست ہے۔ دوسرا اگر وہ مدعو ہوتا تو کسی کا وقت نہ ضائع نہ کرتا۔ " پرمود
نے سرہلایا۔
" وقت
کا ضیاع کیسے؟ "………………
کرنل کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
" خط
میں دیے گئے وقت کے مطابق وہ لیٹ ہے۔"
"وہ
ہم سے پہلے پہنچ چکا ہے۔ "
" اوہ……… کہیں یہ خط والی شرارت اسی کی تو نہیں؟ "
" میرے
خیال سے تمہاری نیند پوری ہو گئی ہو گی۔ " کرنل نے تیسرے خالی صوفے کی طرف
دیکھ کر کہا تو پرمود چونک گیا۔
"پیرو
مرشد"………………
صوفے کے عقب سے ہاتھ اور آواز بیک وقت بلند ہوئے۔
" عمران……………… یہ یہاں لیٹا ہے، مگر کب سے؟ " پرمود اچھل پڑا۔
" پیرومرشد مرید کے
عیبوں پر پردہ فرمائیں۔" عمران
مخصوص لباس میں، صوفے کے پیچھے کھڑا انگڑائی لے رہا تھا۔
"فرزند
پردہ چھوٹا ہے۔" فریدی نے قہقہہ لگایا۔
"ارادہ
مرشد، ارادہ۔ اس سے کیا نہیں ہو سکتا"۔ عمران مسکرا کر ان کی طرف بڑھا اور
باری باری گلے ملا، جیسے طویل عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہو۔
" جب
مرید، مرشد کو ارادہ، ارادہ سکھا رہا ہے تو مرشد کون ہے، یہ سوال اہم ہے۔"
پرمود مسکرایا۔
اس نے توصیفی
نظروں سے کرنل فریدی کی طرف دیکھا جس نے عمران کی موجودگی بھانپ لی۔
"اس
سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ مجھے مزدور درکار ہیں اور کرنل صاحب کے پاس افرادی قوت
ہے۔ " عمران صوفے پر گرتا ہوا گویا ہوا۔
" اوہ
تو تم نے عمارت کے گرد بلیک فورس کی موجودگی نوٹس کر لی۔"
"یہ
ہوتا ہے مرشد۔" عمران نے پرمود سے کہا تو وہ ہنس دیا۔
تیسری
مرتبہ دروازہ کھلا تو تینوں چونک گئے۔ سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک سمارٹ نوجوان اندر
داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور ان تینوں کے لیے محبت اور عقیدت دیکھی جا
سکتی تھی۔ نوجوان کی شخصیت میں عجیب سی کشش تھی۔
"السلام
علیکم استادان گرامی……………… "
" گرمی………………ہائے "……………… عمران کو جیسے اچانک ہی موسم یاد آیا ہو۔
"وعلیکم
السلام فرزند"………………
کرنل فریدی کی آنکھوں میں اس کے لیے پسندیدگی کی جھلک نظر آئی۔ پرمود نے بھی دھیرے سے سلام کا جواب
دیا اور عقابی نظروں سے نووارد کا جائزہ لینے لگا۔
"وعلیکم
السلام یا اخی "………………
عمران نے منہ چلاتے ہوئے کہا اور آنکھیں موند لیں۔
نوجوان
پراعتمادی سے قدم اٹھاتا ہوا کرنل فریدی کی طرف بڑھا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ
بڑھایا۔
"کیسے ہو ساحر میاں………………" کہتے ہوئے فریدی اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے گلے لگا لیا۔
"الحمدللہ
سر………………"
ساحر نے جواب دیا۔
"سر
نہیں………………پیرو
مرشد" عمران کی بڑبڑاہٹ سنائی دی، تب تک ساحر میجر پرمود کے پاس پہنچ چکا تھا۔
"بے
شک لیکن کہہ………………
آپ ہی سکتے ہیں۔" ساحر نے ہنس کر کہا۔
پرمود
سے ملنے کے بعد ساحر چوتھے صوفہ پر بیٹھ رہا۔
"آپ
کا تعارف؟"………………
پرمود کی نظریں ساحر پر گڑی ہوئی تھیں۔ "
ساحر
علی گردیزی، آپ ہی کی طرح کے کام کرتا ہوں۔"
" کام
نہیں………………
حرکتیں کہو………………"
عمران بڑبڑایا۔
"کچھ
تو اپنے لیے بھی بچا رکھو۔ " فریدی نے عمران سے کہا۔
"میرے
لیے تو آپ ہیں۔" عمران مسکرا کر سیدھا ہو گیا۔
"میرے
جیسے کام سے آپ کا کیا مطلب ہے؟"………………
پرمود جیسے اپنے اکلوتے حدف پر ہی نظر جمائے ہوئے تھا۔
"سر……………… کچھ عرصہ پہلے ایک خفیہ ادارے، گرین سروس کی
بنیاد رکھی گئی تھی۔ میں اس کا سیکنڈ باس ہوں اور ٹیم کو فیلڈ میں لیڈ بھی کرتا
ہوں۔" ساحر
نے احترام سے جواب دیا۔ "
اوہ اچھا………………
یہ نام تو سنا ہے۔" پرمود نے سرہلایا۔
"
میجر کو متاثر کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔"
کرنل فریدی مسکرائے۔
" میرے
استاد کسی کو متاثر کرنے کے لیے کام نہیں کرتے لہذا میں بھی اچھا شاگرد ثابت ہونے
کی کوشش کروں گا………………
ان شاءاللہ۔ " ساحر نے تینوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"کیا
خیال ہے؟ "………………
کرنل فریدی عمران سے مخاطب ہوئے۔
"مرے
گا"………………
عمران نے جواب دیا تو پرمود کا قہقہہ بلند ہوا۔
"کس
کے ساتھ بیٹھنا چاہو گے؟ "………………
کرنل فریدی نے ساحر سے پوچھا۔
" آپ
مرشد ہیں، آپ ہی بتائیں، اس کی کیا مجال کہ جواب دے۔ " عمران نے بات اچک لی۔
"پوچھنا
تو بنتا ہے۔ " پرمود نے کہا۔
"آپ
سب میرے استاد ہیں، میں بس آپ کے پیچھے چلنا چاہوں گا۔ " ساحر نے جواب دیا۔
"یعنی
صوفہ………………
اپنا اپنا………………
" عمران نے پیوند لگایا۔
" بہت
خوب………………"
کرنل فریدی نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
" نجانے
وہ منشی کہاں گیا جس نے خط میں لکھا تھا کہ پرتکلف دال مارکہ دعوت ہے۔" عمران بڑبڑایا۔
"کھانا
تیار ہے سر"………………ساحر
کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ "میرے ساتھ تشریف لایئے۔
"
"مقصد
حیات ہو تو ایسا" ………………عمران
پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا، باقیوں نے بھی پیروی کی۔
کرنل
فریدی کےپیچھے پرمود اور آخر میں عمران جس نے ساحر کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا،
باہر کو چل دیے۔
"مرشد
ذرا خشک مزاج ہیں، پرواہ مت کرنا۔" عمران نے سرگوشی کی۔
" یہ
راز افشاء کرنے کے باوجود آپ کو دال کی ایک ہی پلیٹ
ملے گی۔"
ساحر مسکرایا
تو عمران نے اسے گھور کر دیکھا۔ ساحر کنکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا……………… یکبارگی دونوں نے قہقہہ لگایا تو فریدی اور
پرمود چونک کر مڑے۔
"پاگل………………" پرمود بڑبڑایا۔
" دو
ہو گئے………………"
فریدی مسکرایا۔
وہ
کمرے سے نکل کر خوش گپیاں کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
دوسری
منزل کی کھڑکی میں کھڑے ابنِ صفی مسکراتے ہوئے قلم انگلیوں میں گھمانے لگے۔
" کیا
دیکھ رہے ہیں؟"………………
اقبال صاحب نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
"وقت
کی رفتار ………………" دروازے پر دستک نے ان کی بات کاٹ دی۔
"آجاؤ………………" اقبال صاحب نے کہا۔
دروازہ کھلا اور
سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان اندر داخل ہوا۔
"آپ کی اجازت سے کھانا لگ چکا ہے سر………………"
اس نے سر خم کرتے ہوئے دونوں صاحبان سے کہا۔
"باقی مہمان
؟۔" ابنِ صفی صاحب نے پوچھا۔
"سبھی پہنچ چکے ہیں۔" نوجوان نے احترام سے جواب
دیا۔
"چلو
بھئی………………
یہ بھی ابنِ ہے، اس کی طلب پوری کی جائے۔" ابنِ صفی صاحب نے ہنس کر کہا تو
اقبال صاحب بھی ہنس دیے۔
تحریر کو ہر لحاظ سے متوازن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور
احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ یہ ایسی ملاقات ہے جس کی خواہش تو ضرور ہے
لیکن ممکن نہیں۔ کمی بیشی نظر انداز کیجئے گا۔
والسلام
ابنِ طالب
https://web.facebook.com/ibne.talib.142/

0 Comments